MAARIF RESEARCH JOURNAL

ISSN 2415-2315 (Online), ISSN 2221-2663 (Print)

خلاصہ: ذاتِ انسانی کی طرف جن اوصاف و اعراض کی نسبت و اسناد (predication) کی جاتی ہے، جیسے عمومی فضائل اور رذائل، ان میں اخلاقی صفات یا خصلتیں اپنا الگ درجہ رکھتی ہیں۔ بنیادی طور پر یہ دو قسم کی ہیں: صفاتِ محمودہ اور صفاتِ مذمومہ۔ یعنی اچھی یا لائقِ ستائش صفات، اور بُری یا لائقِ مذمت صفات۔ یہ تقسیم اپنے اپنے انداز میں عام انسانی طبیعت و فطرت اور دین و مذہب دونوںکے حکم و اقتضاء کی رو سے ہے۔ اور ہر ایک صفت و خصلت یا ’’لازم‘‘ کی صورت میں ہوتی ہے جو انفرادی زندگی سے متعلق ہوتی ہے، اور یا ’’متعدی‘‘ ہوتی ہے یعنی اجتماعی زندگی سے اس کا تعلق و ارتباط ہوتا ہے، اور یا لازم اور متعدی دونوں ہوتی ہے۔ ’’صفاتِ محمودہ‘‘ میںسے ایک ’’تحمل مزاجی‘‘ ہے جس پر یہاںاسلامی تعلیمات و ہدایات اور موجودہ عالمی فضاء کے حوالے سے روشنی ڈالنی مقصود ہے۔

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags:

One Comment

اسلام انسانیت کا خیر خواہ اور امن و سلامتی کا دین ہے، حضورﷺ کو سارے جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا گیا۔ مخالفین کی نفرت وعداوت کے جواب میں آپﷺ نے عموماً صبر و تحمل اور عفوو درگزر سے کام لیا۔ مسلمانوں کو مسلح جہاد کا حکم بھی صرف محاربین کے خلاف ملا۔ غیر مسلموں میں سے جو لوگ اسلام کے خلاف جارحیت چھوڑکر مصالحت اور اسلامی ریاست کے زیر انتظام آنے پر آمادہ ہوئے تو حضورﷺ نے نہ صرف ان کی یہ پیشکش قبول فرمائی بلکہ ان کے جان و مال اور عقیدہ و مذہب کا تحفظ بھی اپنے ذمہ لیا

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags: , ,

Leave a Comment

خلاصہ : تقریباً ۱۴۵ھ / ۷۶۲ء میں بغداد عباسیوں کے نئے دارالخلافہ کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ پھر پانچ صدیوں میں یہ شہر تعلیم اور ثقافت میں دنیا کا مرکز بن گیا۔ اسی لیے اس عرصے کو اسلامی تہذیب کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔ جب اسلامی دنیا کے علما و فضلا نے طبعی اور معاشرتی علوم میں اہم کام کیے۔ عباسیوں کے دور میں بغداد عجائب خانوں، اسپتالوں، کتب خانوں اور مساجد کا شہر ہو گیا تھا۔ نویں تا تیرہویں صدی کے معروف مسلم علما کے علم و فضل کی جڑیں بغداد میں ہی تھیں۔ یہ یورپ کا تاریک دور تھا۔ بغداد اس دور میں دنیا کا امیر ترین اور بہت ترقی یافتہ شہر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ پانچ سو سال تک حکومت کرنے کے بعد دنیائے اسلام پر عباسیوں کا دبدبہ آہستہ آہستہ کم ہونے لگا اور بالآخر ۶۵۶ھ / ۱۲۵۸ء میں بغداد منگولوں کے ہاتھوں تباہ ہو گیا اور عباسیوں کا دور بھی ختم ہو گیا۔ دجلہ اور فراط کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہزاروں علما کے خون سے سرخ ہو گئے تھے۔ بہت سے کتب خانے، تاریخی خزانے لوٹے گئے اور ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے۔ اس مقالے میں تاریخی اور سیاسی پس منظر کا جائزہ لیا گیا ہے۔

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags: ,

Leave a Comment

خلاصہ: برصغیر جنوبی ایشیاء میں برطانوی راج کے قیام کے بعد عسکری انقلابی تحریک کی ابتداء کو ’’کایا نامدھاری تحریک‘‘ (۷۲۔۱۸۶۲ء) سے ہوئی۔ یہ محض اتفاق تھا کہ ۱۹۰۷ء میں حکومتِ پنجاب نے زرعی اراضی سے متعلق سرکاری اراضی کی آبادکاریت کا بل منظور کیا۔ اس بل کے خلاف پنجاب بھر میں ’’پگڑی سنبھال او جٹّا‘‘ کے نام سے زبردست تحریک چلی۔ اس تحریک کے روحِ رواں اجیت سنگھ اور لالہ لجپت رائے تھے۔ وائسرائے لارڈ منٹو نے کسانوں کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے آبادکاریت بل کو ویٹو کر دیا۔ اس سے کسانوں کا ایجی ٹیشن ختم ہو گیا۔ لیکن اس تحریک کے پیدا کردہ رہنمائوں سردار اجیت سنگھ، صوفی انباء پرشاد اور دیگر نے اپنے ٹھکانے بیرونِ ملک بالخصوص یورپ اور امریکا میں منتقل کر لیے۔ پارٹی کے حوالے سے بابا سوہن سنگھ بھکنہ، لالہ ہردیال اور مولوی برکت اﷲ بھوپالی معروف نام ہیں۔ اس پارٹی نے ۲۲ فروری ۱۹۱۵ء کا دن انقلاب کے لیے منتخب کیا تھا مگر مخبری ہو جانے کی وجہ سے سارا منصوبہ خاک میں مل گیا۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن اور ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ عالمِ اسلام کا مسئلہ بشمول مسئلہ خلافت ہندوستان کی آزادی کے بغیر حل نہیں ہو سکتا اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب کوئی غیرملکی طاقت ہندوستان پر حملہ کرے۔ چنانچہ اس غرض کے لیے انہوں نے امیر افغانستان کو ترکی اور جرمنی کے ساتھ مل کر فوج کشی پر آمادہ کرنے کے لیے ۱۹۱۵ء میں اپنے عزیز شاگرد مولانا عبید اﷲ سندھی کو کابل بھیجا۔ جنہوں نے وہاں پہنچ کر راجہ مہندر پرتاب اور مولوی برکت اﷲ بھوپالی کے ساتھ مل کر ہندوستان کی جلاوطن حکومت قائم کی۔ لیکن یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags: ,

Leave a Comment

خلاصہ: نیٹو (معاہدہ شمالی اوقیانوس) ۱۹۴۹ میں بننے والی ایک ایسی تنظیم ہے جس میں امریکا اور کینیڈا سمیت تمام مغربی یورپی ممالک شامل ہیں۔ اپنی ابتدا سے لے کر اب تک یہ تنظیم کئی بار توسیع کے مراحل سے گزر چکی ہے۔ نیٹو ایک ایسا فوجی اتحاد ہے جو امریکا کی سرپرستی میں پوری دنیا میں فوجی حکمرانی کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نیٹو تنظیم کی وجہ سے یورپ میں امن کو استحکام حاصل ہوا اور یورپی ممالک کو اپنی سلامتی کے مسائل سے بے فکری حاصل ہوئی۔ اور ان ممالک نے اپنے وسائل تعمیر و ترقی کے لیے وقف کر دیے۔ گو کہ وہ مقاصد پورے ہو چکے ہیں جن کی وجہ سے اس تنظیم کاوجود عمل میں آیا۔ پھر بھی اس تنظیم کے جواز اور عدم جواز کی بحث جاری ہے۔ زیر نظر مقالے میں یورپی یونین اور امریکا کے مابین دفاعی تعلقات اور نیٹو کی ضرورت کے ساتھ ساتھ نیٹو کے out of area operations کو لے کر بلقان، پاکستان اورافغانستان پر بحث کی گئی ہے۔

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags: ,

Leave a Comment

خلاصہ : امت سے بے پناہ شفقت کی بناء پر آپؐ ہمیشہ اس فکر میں رہتے تھے کہ امت عذابِ اخروی سے بچ کر جنت کی مستحق بن جائے۔ اسی لیے آپؐ نے امت کو وہ اعمال اور موقع و محل کی دعائیں بتلائیں کہ جس کی پابندی کرنے سے مخلوق کا تعلق خالق سے مضبوط سے مضبوط تر ہوتا رہے اس کے علاوہ آپؐ نے ایسے امور کے متعلق بھی امت کی رہنمائی فرمائی جس کا تعلق مستقبل کی بہتری حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے سے متعلق ہو۔ اس کے لیے آپؐ نے جو عمل بتلایا اس کو عملِ استخارہ کہتے ہیں اور اس بارے میں جو آپؐ نے حدیث بیان فرمائی اس کو حدیث استخارہ کہتے ہیں۔ اس حدیث میں آپؐ نے امت کو دو رکعت صلاۃ الاستخارۃ پڑھ کر دعائے استخارہ مانگنے کا طریقہ بتلایا۔

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags:

Leave a Comment

خلاصہ : بغیر علاقے کے فرد ڈاکٹر حمید اﷲ (متوفی ۲۰۰۲ء) موجودہ دور کے مسلم علما میں سب سے زیادہ عظیم ہیں۔ تحقیق، تدریس، تالیف اور اسلام کی تبلیغ میں ان کے انہماک نے ان کی کثیر الجہات شخصیت کی عظمت کو واضح طور پر ثابت کر دیا ہے۔ ان کا تعلق خاندانِ نوائط سے ہے جو قریش کا انتہائی اہم قبیلہ ہے۔ ان کے اجداد نے پہلی صدی ہجری / چھٹی صدی عیسوی میں عرب سے ہندوستان ہجرت کی۔ نوائط خاندان کے بہت سے اراکین نے ہندوستان کی فوج، عدلیہ اور ادبی حلقوں میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ اس مقالے میں ہندوستانی اور اسلامی تاریخ میں اس کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی کردار کو واضح کیا گیا ہے۔

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags: ,

Leave a Comment

تفسیر المنار اپنی مختلف خصوصیات کی بنا ء پر ایک بڑے علمی حلقہ میں جہاں پسند کی گیٔ وہیں ایک حلقہ نے اسے ہدفِ تنقیدبھی بنایا، یہ حقیقت ہے کہ صاحب تفسیر المنار کے بہت سے خیالات سے اختلاف کی گنجائش ہے،لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ د عوت الیٰ اﷲ و تدبر قرآن میں اس تفسیر کا ایک نمایاں حصہ ہے، یہ ان تفاسیر میں سے نہیں ہے جن میں صرف مفسرین کے اقوال نقل کئے گئے ہوں، اس میں تفکر و تدبر کی روح پوری طرح نمایاں ہے

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags:

Leave a Comment

اس کتاب کے مطالعے سے واضح طور پر ادراک ہوتا ہے کہ مصنف نے حقائق بیان کرنے میں کسی تعصب، کسی ذہنی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے مفید معلومات کو مناسب طریقے سے ترتیب دے کر پیش کر دیا ہے۔ مصنف کی پوری کوشش یہ محسوس ہوتی ہے کہ بس حقائق پیش کیے جائیں ان پر کسی ذاتی تبصرے سے گریز کیا جائے۔

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags: , ,

Leave a Comment

We are at the zenith of advancement and expansion of human potentials. Educational developments have opened new vistas of worldwide technology, swift information systems and highly advantageous economic patterns. Man is at the height of power and authority. A worldly superiority has been established with the tools of material, physical and technical abilities, the outcome of the European Renaissance. This led to transformation of consciousness, which according to intellectuals were demonic in nature.

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags:

Leave a Comment

ABSTRACT Allah sent Du‘at [Pl. of Da‘ee i.e., Preachers] amongst all the nations in every epoch and in all lands, for the true guidance of man and persuasion to him to the right path. This is obvious from the verses of the Holy Qur’an:

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags: ,

Leave a Comment

ABSTRACT The present study was planned to investigate the job satisfaction among the officers of Habib Bank Limited Karachi. After 1990 the Government of Pakistan decided to privatize those industrial concerns which were running in loss. Thereafter, some industrial concerns had been given in the process for their privatization to get organizational changes in context better profitability of the concern. For instance Pakistan Telecommunication Company Limited, Steel Mill, Karachi Electric Supply corporation and Nationalized Banks had been chosen for privatization on priority basis. The results of the study revealed the relationship between organizational factors like; High Commitment Environment, Corresponding Co-worker Support, Organizational Communication, Task control and Participant Decision Making and job satisfaction Habib Bank Limited employees. Researcher has found all organizational factors have strong relationship with the job satisfaction level of Habib Bank Limited employees.

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags: ,

Leave a Comment

ABSTRACT Power and politics are indispensable to any social institution. By the same logic, formal organizations are not the exceptions rather battlegrounds for playing political games to hold and maintain power in the group, organization and community. Given this, if a project is perceived disturbing for the existing power structures, it is resisted by those who find their power threatened. Information in itself is a powerful resource thereby vital to political capacity of those who hold it against those who don’t. This paper carves out the political strings in the development, use and maintenance of computer-based information systems (CBIS) in public and private organizations of any size, structure and power with a view to coming up with a logically interwoven layout of the problem and solution models.

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags:

Leave a Comment