MAARIF RESEARCH JOURNAL

ISSN 2415-2315 (Online), ISSN 2221-2663 (Print)

مقالۂ خصوصی

معروضہ

جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے اس خطے میں جو سب سے نمایاں کارنامہ انجام دیا، اس کی جزئیات میں گئے بغیر، محض یہ اشارہ کافی ہے کہ انھوں نے ایک ایسی مملکت قائم کی اور صدیوں تک اسے کامیابی سے قائم رکھا جس نے تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے اْن روایات کو جنم دیاجو اس خطے کے لیے ایک نظیر بن گئیں۔اس کے استحکام، خوش حالی اور ثقافتی امتیازات نے ایک عالم کو اپنی جانب متوجہ کیا اور یہ مختلف اقوام کے تخیلات کا حصہ بنتی رہی۔اس کے باوجود اس کے ساتھ المیہ یہ پیش آیا کہ جب اندرونی کمزوریوں اور اخلاق باختگی کی وجہ سے یہ زوال آمادہ ہوئی تو اس نے اپنا روایتی کردار ادا کرنا چھوڑ دیا۔چناں چہ جب مغربی استعمار نے ایسی صورت ِ حال سے فائدہ اٹھا کر اس کے اقتدار پر قبضہ جمانے میں کامیابی حاصل کرلی تومسلمان ایک ایسے غیر اہم عنصر کی حیثیت سے باقی رہ گئے جس میں زندگی کی حرارت و سرگرمی تقریبا ً مفقود ہوکر رہ گئی اور بس اس حد تک باقی رہ گئی کہ جب کوئی دعوت ِمقابلہ (Challenge) اسے درپیش ہوتاتو یہ بروئے کار آتی۔

نوآبادیاتی دور میں تو اس عنصر کو ایک ایسی حقیر سی مذہبی اقلیت سمجھ لیا گیاتھا جس سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ اپنے لیے ایک مذہبی اقلیت کے سعادت مندانہ کردارکوقبول کرلیں گے اور تمام امور میں ہندوستانی قوم سے ہم آہنگی پیدا کرلیں گے۔یہ گمان اس وقت نمایاں ہوا جب جدید علوم اور تعلیم کے رائج ہونے پر قوم پرستی نے قلب و ذہن کو متاثر کرنا شروع کیا تو اس وقت یہ سمجھا جانے لگا کہ یہ اقلیت چوں کہ ایک ہی مشترک وطن میں آباد ہے اس لیے ایک قومی اتحاد کا جزو بن جائے گی۔لیکن اس قسم کی توقعات مسلمانوں کی نفسیات، ان کی روایات اور ان کے رہنماؤں کے افکار اور ان کی تاریخ سے ناواقفیت پر مبنی تھیں۔لیکن جب ان ہی روایات اور تاریخ کے تقاضے سامنے آئے تو مسلمانوں نے خود ہر اعتبار سے ایک قوم ہونے کا دعویٰ کردیا اور اس پرقائم بھی رہے اور اب نئے حالات اور مسائل میں اپنے لیے ایک الگ راہ کے انتخاب اور ایک مختلف منزل تک پہنچنے کے عزم و ارادے اور اس منزل میں اپنی ایک آزاد مملکت کے قیام کو اپنا مقدر قرار دے دیا۔

مسلمانوں کو جنوبی ایشیا میں، اپنی کْل حیات ِ سیاسی میں سب سے شدید دعوت ِ مقابلہ کا سامنا جنگِ آزادی میں ناکامی کے بعد کرنا پڑا۔اس جنگ میں وہ اگر ایک جانب اس کے محرک بھی تھے تو دوسری جانب دیگر مقامی اقوام کے شریک بھی تھے،لیکن نتائج کی سنگینی صرف ان کا مقدر بنی۔ان حالات میں سید احمد خان کے تجزیے، ان کی فکر، حکمت ِ عملی اور جدوجہد نے اپنی ملت کے لیے ایک ایسی راہ متعین کی اور اس راہ کے اپنانے کی تلقین کی جس پر چل کر وہ اس منزل تک پہنچ سکتے تھے جو ان کا مطمح نظر ہوسکتی تھی۔ان کے بعداگرچہ خود ان کے رفقا اور مقربین نے جدید رجحانات کے تغیرات کو قبول کرنے سے گریز نہ کیا لیکن ایک مابعد الطبیعاتی طرز ِ فکر کے ساتھ عصری تقاضوں کے مطابق اسلام کی نئی تعبیرایک درمیانی راہ کی صورت میں کی،جس نے اجماع کے تصور اور پارلیمانی جمہوریت کے درمیان ایک توازن قائم کیا اور مسلم قومیت کا ایک ایسا تصور پیش کیا جس سے ایک آزاد اسلامی مملکت کے طور پر تصور ِ پاکستان اجاگر ہوا اور حصول ِ پاکستان کی تحریک شروع ہوئی۔

اس منزل تک پہنچنے یا پہنچانے کے لیے جن تصورات نے ایک مستحکم شعور کے پیدا کرنے اور مسلم ملت کو اپنے مقدر کو سنوارنے کے لیے ایک مؤثر کردار ادا کیا،وہ سید احمد خان اور اقبال کے وہ خیالات ہیں جو انھوں نے اہم سیاسی مراحل میں قوم کے سامنے پیش کیے۔ اگرچہ اس عہد میں بھی ایسے مفکرین و دانش ور مسلمانوں میں ان کی رہنمائی کے لیے موجود تھے جنھوں نے اپنے اپنے طور پر، اپنے زاویۂ نظر سے مسلم ملت کو نو آبادیاتی دور میں درپیش مسائل کے حل کی تدابیر کی بابت خلوص ِ دل سے سوچا لیکن کوئی منظم منصوبہ یا لائحۂ عمل ایسا پیش نہ کیا جو مسلم ملت کے لیے ایک نجات دہندہ ثابت ہوتی۔لیکن سید احمد خان کے بعد اقبال ہی ایسے دانشور کے طور پر سامنے آتے ہیں جن کی فکر نے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی راہ ِ عمل متعین کی جس پر چل کر وہ اپنے ملی تقاضوں کے مطابق ایک مملکت اور ایک معاشرہ تعمیر کرسکتے تھے جو ایک حد تک ہی سہی، انھوں نے کیا۔ یہاں اس تناظر میں سید احمد خان اور اقبال کے ان خیالات کو ان کے پس منظر میں پیش کیا جارہاہے جن سے جنوبی ایشیا کے نوآبادیاتی عہد کی سیاسی تاریخ میں مسلم ملت کی سیاسی فکر کی تشکیل ِ جدید کی ایک نمائندہ اور موثر صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔

Download (PDF, 1.07MB)

January 1st, 2014

Posted In: Issue 07, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags: , , ,

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *