MAARIF RESEARCH JOURNAL

ISSN 2415-2315 (Online), ISSN 2221-2663 (Print)

خلاصہ : تقریباً ۱۴۵ھ / ۷۶۲ء میں بغداد عباسیوں کے نئے دارالخلافہ کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ پھر پانچ صدیوں میں یہ شہر تعلیم اور ثقافت میں دنیا کا مرکز بن گیا۔ اسی لیے اس عرصے کو اسلامی تہذیب کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔ جب اسلامی دنیا کے علما و فضلا نے طبعی اور معاشرتی علوم میں اہم کام کیے۔ عباسیوں کے دور میں بغداد عجائب خانوں، اسپتالوں، کتب خانوں اور مساجد کا شہر ہو گیا تھا۔ نویں تا تیرہویں صدی کے معروف مسلم علما کے علم و فضل کی جڑیں بغداد میں ہی تھیں۔ یہ یورپ کا تاریک دور تھا۔ بغداد اس دور میں دنیا کا امیر ترین اور بہت ترقی یافتہ شہر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ پانچ سو سال تک حکومت کرنے کے بعد دنیائے اسلام پر عباسیوں کا دبدبہ آہستہ آہستہ کم ہونے لگا اور بالآخر ۶۵۶ھ / ۱۲۵۸ء میں بغداد منگولوں کے ہاتھوں تباہ ہو گیا اور عباسیوں کا دور بھی ختم ہو گیا۔ دجلہ اور فراط کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہزاروں علما کے خون سے سرخ ہو گئے تھے۔ بہت سے کتب خانے، تاریخی خزانے لوٹے گئے اور ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے۔ اس مقالے میں تاریخی اور سیاسی پس منظر کا جائزہ لیا گیا ہے۔

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags: ,

Leave a Comment