MAARIF RESEARCH JOURNAL

ISSN 2415-2315 (Online), ISSN 2221-2663 (Print)

خلاصہ: برصغیر جنوبی ایشیاء میں برطانوی راج کے قیام کے بعد عسکری انقلابی تحریک کی ابتداء کو ’’کایا نامدھاری تحریک‘‘ (۷۲۔۱۸۶۲ء) سے ہوئی۔ یہ محض اتفاق تھا کہ ۱۹۰۷ء میں حکومتِ پنجاب نے زرعی اراضی سے متعلق سرکاری اراضی کی آبادکاریت کا بل منظور کیا۔ اس بل کے خلاف پنجاب بھر میں ’’پگڑی سنبھال او جٹّا‘‘ کے نام سے زبردست تحریک چلی۔ اس تحریک کے روحِ رواں اجیت سنگھ اور لالہ لجپت رائے تھے۔ وائسرائے لارڈ منٹو نے کسانوں کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے آبادکاریت بل کو ویٹو کر دیا۔ اس سے کسانوں کا ایجی ٹیشن ختم ہو گیا۔ لیکن اس تحریک کے پیدا کردہ رہنمائوں سردار اجیت سنگھ، صوفی انباء پرشاد اور دیگر نے اپنے ٹھکانے بیرونِ ملک بالخصوص یورپ اور امریکا میں منتقل کر لیے۔ پارٹی کے حوالے سے بابا سوہن سنگھ بھکنہ، لالہ ہردیال اور مولوی برکت اﷲ بھوپالی معروف نام ہیں۔ اس پارٹی نے ۲۲ فروری ۱۹۱۵ء کا دن انقلاب کے لیے منتخب کیا تھا مگر مخبری ہو جانے کی وجہ سے سارا منصوبہ خاک میں مل گیا۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن اور ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ عالمِ اسلام کا مسئلہ بشمول مسئلہ خلافت ہندوستان کی آزادی کے بغیر حل نہیں ہو سکتا اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب کوئی غیرملکی طاقت ہندوستان پر حملہ کرے۔ چنانچہ اس غرض کے لیے انہوں نے امیر افغانستان کو ترکی اور جرمنی کے ساتھ مل کر فوج کشی پر آمادہ کرنے کے لیے ۱۹۱۵ء میں اپنے عزیز شاگرد مولانا عبید اﷲ سندھی کو کابل بھیجا۔ جنہوں نے وہاں پہنچ کر راجہ مہندر پرتاب اور مولوی برکت اﷲ بھوپالی کے ساتھ مل کر ہندوستان کی جلاوطن حکومت قائم کی۔ لیکن یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔

read more

January 1st, 2011

Posted In: Issue 01, MAARIF RESEARCH JOURNAL

Tags: ,

Leave a Comment