اسلامی تہذیب کے احیا میں حائل معاصر نظریات کا تجزیاتی مطالعہ

Authors

  • Waqas Khan
  • Dr. Zabih ur Rahman

Keywords:

اسلامی تہذیب, معاصر نظریات, امت, تہذیب

Abstract

     

کسی بھی قوم کی پہچان اس کی تہذیب سے  ہوتی ہے، تہذیب مجموعہ ہے قوم کے مذہبی عقائد، عبادات،روایات، رسومات، علوم و فنون سمیت ان جملہ امور کا جوکسی بھی معاشرے کی ضرورت ہوتے ہیں۔ اسلامی تہذیب ان اصول ومبادی کا نام ہے جو اللہ رب العالمین نے شریعت کی صورت میں نازل کی ہیں   اور نبیﷺ کی سیرت طیبہ اسلامی تہذیب کی عملی تصویر کے طور پر موجود ہے۔ عصر حاضر میں اسلامی تہذیب تیزی سے انحطاط کا شکار ہے ، خاندانی روایات ہوں یا اسلامی تہوار، پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے  قوانین ہوں یا عدالتی فیصلے،  میڈیا پر چلنے والے اشتہارات ہوں  یا علوم و فنون سے متعلقہ اداروں کی پالیسی ہو،  ان  اداروں میں  اسلامی تہذیب  ناپید ہوتی جارہی ہے۔   اس صورتحا ل میں بھی ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ امت مسلمہ کے اہل علم حضرات کو ا س مسئلے کا ادراک ہے اور اسلامی تہذیب کے احیا کی کاوشیں جاری ہیں۔اسلامی تہذیب کے احیا کے حوالے سے  امت ِمسلمہ کو مختلف چیلنجز درپیش ہیں ۔انہی  میں سے ایک بڑا چیلنج وہ معاصر نظریات ہیں جو تیزی سے اسلامی تہذیب پر اثر انداز ہورہے ہیں ۔ جن میں الحاد، سیکولرزم ، جدید تحریک نسواں شامل ہیں ۔ ان نظریات کے پرچار کے لیے ذرائع ابلاغ کی تمام ممکنہ صورتیں کہ جس میں پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا شامل ہیں استعمال کی جاتی ہیں ۔ اس  تحقیق میں مذکورہ نظریات  کے حوالے سے منعقد ہونے والی سرگرمیوں کو بیان کرتے ہوئے اس بات کا تجزیہ کیا جائے گا کہ کس طرح یہ  نظریات  اسلامی تہذیب کے احیا میں رکاوٹ بنتی ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ  زیر نظر  تحقیق میں ان اسباب کو بھی بیان  کیا جائے گا کہ جن کی بنیاد پر معاصر نظریات اسلامی تہذیب پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔نیز اس  تحقیق میں اس سوال کا جواب بھی تلاش کیا جائے گا کہ اسلامی تہذیب کے احیا میں حائل ان  نظریات کے مقابلے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیارکی جائے۔اورساتھ ہی ایسی قابلِ عمل تجاویز بھی مرتب کرے گی  جوعصرحاضر میں اسلامی تہذیب کے احیامیں معاون ثابت ہوں۔

Downloads

Published

2022-06-30